17 نومبر 2014 - 11:45
صہیونی ریاست کو، یہودی حکومت بنانے کی کوشش

صہیونی ریاست کے وزیراعظم بنیامین نتنیاہو نے اعلان کیا ہے کہ وہ ایک ایسے بل کی منظوری میں کوشاں ہیں کہ جس سے اسرائیل کو، سرکاری حیثيت سے، حکومت یہود کے طور پر جانا جائے ۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق صہیونی ریاست کے وزیراعظم بنیامین نتنیاہو نے اعلان کیا ہے کہ وہ ایک ایسے بل کی منظوری میں کوشاں ہیں کہ جس سے اسرائیل کو، سرکاری حیثيت سے، حکومت یہود کے طور پر جانا جائے ۔ بنیامین نتنیاہو نے کل صہیونی حکومت کی کابینہ میں کہا کہ اسرائیل ایک یہودی حکومت ہے ۔ یہ  ایسی حالت میں ہے کہ صہیونی ریاست اس کوشش میں ہے کہ خود کو یہودی حکومت کے طور پر پہچنوائے جانے کے لئۓ عبری زبان کو بھی مقبوضہ سرزمین مین سرکاری زبان قرار دے۔ صہیونی ریاست کی بلدیہ نے بھی حالیہ مہینوں ميں 1948 کے مقبوضہ علاقوں کے شہروں کے نام تبدیل کرکے عبری زبان میں رکھ دیئے ہیں۔ اور اسی طرح ایک اور اقدام میں سڑک کے کنارے نصب عربی ناموں کے لگے ہوئے سائن بورڈ بھی ہٹا دیئے ہيں۔ صہیونی حکومت، خود کو اقوام عالم کےدرمیان یہودی حکومت تسلیم  کروانے کی غرض سے نے مختلف ہتھکنڈے استمعال کررہی ہے۔ 1948 کے مقبوضہ علاقوں سے تقریبا پندرہ لاکھ فلسطینوں کا مکمل اخراج ، صہیونی ریاست کے نئے تسلط پسندانہ اہداف ميں شامل ہے۔ فسطینیوں کے خلاف صہیونی ریاست کے اقدامات سے اس امر کی نشاندہی ہوتی ہے کہ فلسطینی مسلمان، مقبوضہ علاقوں میں جس جگہ بھی ہوں، کہیں بھی اسرائیل کے نسل پرستانہ اور تسلط پسندانہ جرائم سے امان میں نہيں ہیں۔1948 کے مقبوضہ علاقوں کے وہ فلسطینی جو غاصب صہیونی ریاست کے قبضے کے بعد بھی اپنے وطن اور سرزمین کو چھوڑنے پر راضی نہيں ہوئے اور وہیں رہ گئے، انہیں صہیونی ریاست نے اسرائیلی عربوں کا نام دیا اور اب بھی وہ صہیونی ریاست کی بد ترین نسل پرستانہ اور تباہ کن پالیسیوں کا شکار ہیں۔اسرائیل، صہیونی حکومت کو سرکاری حیثيت سے ایک یہودی حکومت پہچنوانے کا مسئلہ پیش کرنے کے ذریعے، در حقیقت فلسطین کے مقبوضہ علاقوں سے تمام فلسطینیوں کو باہر نکالے جانے ،اور ایک فلسطینی مملکت کے قیام کی راہ میں مشکلات کھڑی کرنے کے درپے ہے۔ صہیونی حکومت مختلف روشوں سے فلسطینیوں کو ان کے وطن سے نکالنے کے درپے رہی ہے اور اسی لئے اس نے فلسطینیوں کے خلاف وسیع پیمانے پر نسلی برتاؤ کی پالیسی اختیار کررکھی ہے۔1948 کے مقبوضہ علاقوں کے فلسطینی، بنیادی طور پر صہیونی معاشرے ميں کسی قانونی حق سے بہرہ مند نہیں ہیں اور انتہائی سخت و دشوار حالات میں زندگي بسر کررہے ہيں اور ہمیشہ ان کو اپنے وطن اور سرزمیں سے نکالے جانے کا خطرہ لاحق رہتاہے۔ صہیونی ریاست نے، کہ جس کی ماہیت نسل پرستانہ ہے، ہمیشہ مقبوضہ علاقوں خاص طور پر 1948 کے علاقوں سے فلسطینوں کاصفایا کرنے کو اپنے ایجنڈے میں قرار دے رکھا ہے کہ جس کے نتیجے میں فلسطینیوں کی ایک بڑی تعداد ان علاقوں کو چھوڑکر چلی گئی ہے ۔ صہیونی حکومت کے ان نسل پرستانہ اور جارحانہ اقدامات کے خلاف کسی بھی قسم کا لیت و لعل، بین الاقوامی سطح پر نسل پرستی کی ایک اور قسم کے مستحکم ہونے کا سبب بنے گا۔ اور یہ صورتحال، صہیونیزم کے تخریبی اقدامات اور خصوصیات کے پیش نظر، اپارتھائیڈ ، فاشزم اور نازی ازم جیسے نسل پرستانہ اقدامات سے بھی زیادہ خطرناک واقع ہوگی۔

.......

/169